Posted on: January 1, 2018 Posted by: Taimoor Arif Comments: 0

اگر آپ کو مختلف سوسائٹیزکی اوریئنٹیشنز پر جانے کا اتفاق ہوا ہو تو آپ دو چیزوں سے با خوبی واقف ہونگے

ہر چیز میں ناچ گانے کو بلا جھجک گھسانا گویا ہمارا قومی فریضہ ہے۔

ہمارے یہاں سوسائیٹیز کو دین دھرم کا رتبہ دیا جاتا ہے۔

او ویک ختم ہوتے ہی فضا میں ایک نئی  کھلبلی مچ جاتی ہے۔ ہر فریش مین کے چہرے پر اک عجب سی پریشانی کا عالم ہوتا ہے۔ دیکھنے والے تو یہی سوچیں گے کہ پڑھائی نے ابھی سے اپنی قوی گرفت میں لے لیا ہے، لیکن اصل مدعا کچھ اور ہے۔ اس پریشانی کی وجہ اپنی پسندیدہ سوسائٹی کا انتخاب اور اس کے انٹرویو کی تیاری کا فوق البشر دباؤ ہے۔ میرا یہ آرٹیکل ان تمام فریش مین کے انٹرویو ایکسپیرینس کو آپ کے سامنے رکھنے کی ادنہ سی کاوش ہے۔

مسکراتے چہرے، اجلی آنکھیں اور ایک عجب سی گرما ہٹ سموۓ انٹرویو پینلز آنے والے فریش مین کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ لیکن ایک فریش مین نے کیا خوب فرمایا: “یہ پینل جیسا دکھتا ہے ویسا نہیں ہے”۔

ہماری اپنی چہیتی ایل ڈی ایس کے بارے میں عوام کے تاثرات بہت دلچسپ تھے۔ سعدالّہ، جن کے بالوں کی کئ لوگوں نے تعریف کی، عوام کو اپنی کرڑک انگریزی سے خوف میں مبتلا کرتے رہے۔ یہی فرض شہربانو صاحبہ کی “‍قاتلانہ گھوری” نے بھی بخوبی سرانجام دیا۔ ہماری سیکریٹری جنرل انعم صاحبہ کے چاہنے والوں کی ہمارے یہاں بہتات ہے۔ کا فی نوجوانوں نے ایل ڈی ایس کے انٹرویو کی اصل دشواری کو سوالات کی بجاۓ انعم صاحبہ کی موجودگی کو ٹھہرایا۔

اگرزمانے میں سعدالّہ کے بالوں کا چرچہ ہوا تو میوزک سوسائٹی کے صدریونس عظیم کی زلفوں نے بھی بہت سے لوگوں کو اسیر کیا۔ میوزک سوسائٹی کی اورینٹیشن کی تعریف تو بہت سننے کو ملی تھی، مگر انٹرویو پینل کا شاید اس سے بھی زیادہ چرچا تھا۔ کسی نے ان کی خوش مزاجی کو سراہا، تو کسی نے پیشہ ورانہ رویے کی۔

لمز ایڈوینچر سوسائٹی کے انٹرویوز سے لوگ کچھ خاص خوش معلوم نہیں ہوۓ۔ “اگر ذلیل ہی کرنا تھا تو انٹرویو کرواتے کیوں ہو؟” ایک بے نام فریش مین نے جذباتی انداز میں اپنے انٹرویو کو چند الفاظ میں سموتے ہوۓ کہا۔ تلخ لہجے اور تمسخر انگیز انداز نے کافی لوگوں کو دل برداشتہ ہوں، اور میں امید رکھتا ہوں ایل اے ایس کے صدر ہمارے اخبار کی وساطت سے اٹھاۓ گۓ اس مسئلے پر ضرور غور کریں گے۔

کراچی ایم یو این سوسائٹی۔۔۔۔۔۔۔ میرا مطلب ہے لومن سوسائٹی کے بارے میں بھی لوگوں کے ملے جلے تاثرات تھے۔ چند حضرات نے اگر لومن کی تعریفوں کے پل باندھے، تو چند نے خدشات کا اظہار کیا۔ بہت سے لوگوں کو انٹرویو پینل کی عدم دلچسپی کا شکوہ تھا۔

سپیڈز یوں تو لمزکی سب سے بڑی سوسائٹی مانی جاتی ہے، مگر میرا اور بہت سے اور لوگوں کا ایک نہایت اہم سوال ہے: یہ بھنگڑا گانوں پر نچا کر کونسی سائنس سوسائٹی کا انٹرویو لیا جاتا ہے۔ ازراہ کرم مرحوم آئنسٹائن صاحب کو قبر میں کروٹیں لینے پر مجبور مت کیجۓ۔

اختتام پرمیں محض اتنا کہنا چاہوں گا کہ اس آرٹکل کی تمام ترمزاہ انگیز تنقید اصلاحی اقدامات کے لیے استعمال کی جاۓ تو میرا تین دن مائکروسافٹ ورڈ پر اردو ٹائپ کرنا رائگاں نہ جاۓ گا۔

Latest posts by Taimoor Arif (see all)

Leave a Comment